*مروجہ تبلیغی جماعت کا کام موافقت اور مخالفت سے آگے نکل چکا ہے - امر انتظامی پر تفاخر دلیلِ بدعت ہے*
✍️ *مفتی ارشد دہلی والا*
مروجہ تبلیغی جماعت سے منسلک کچھ علماء نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ مروجہ تبلیغی جماعت کے خلاف کوئی ایک ہزار پوسٹر لگادے یا ایک ہزار کتابیں لکھ دے یا ایک ہزار بیانات کردے اس سے ہمارے کام کو کوئی نقصان نہیں ہوگا اللہ تعالیٰ نے اس کام کو موافقت اور مخالفت سے آگے نکال دیا ہے، کسی موافقت کرنے والے کی موافقت سے ہمارے کام کو کوئی فائدہ نہیں اور کسی مخالفت کرنے والے کی مخالفت سے ہمارے کام کا کوئی نقصان نہیں۔
*عاجز عرض کرتا ہے کہ امور عادیہ و انتظامیہ پر تفاخر یہ ایک اور دلیل ہوئی اس ترتیب کے بدعت ہونے کی،* وجہ اسکی یہ ہے کہ مروجہ تبلیغی جماعت کی ترتیب کا دفاع تو اب تک علماء یہ کہہ کر کرتے آۓ تھے کہ یہ ایک امر انتظامی ہے اور تبلیغ کے امر مطلق کی ادائگی کی منجملہ قیودات میں سے ایک قید مباح ہے، اور امور انتظامیہ و عادیہ کے تعلق سے میں بارہا وضاحت کر چکا ہوں کے *اسکے جواز کے لیۓ یہ ضروری ہے کہ اپنے مخصوص امر انتظامی کو دین نہ سمجھے، مقام مدح میں اسکو بیان نہ کرے اور فخریہ اسکا چرچا نہ کرے۔*
کیونکہ امور انتظامیہ و عادیہ ان وسائل و قیود کو کہتے ہیں جو کسی امر شرعی یا مقصد دینی کے لیۓ مکمل یا محسن بھی نہ ہوں یعنی شارع کی نظر میں انکا فقدان مقاصد کے عدم کو مستلزم ہونا تو درکنار وہ ان مقاصد میں حسن و کمال کو بھی کم نہ کر سکے *مثلاً رسی ڈول سے پانی کھینچکر وضو کرنا کہ یہ حصول وضو کے لیۓ ایک وسیلہ ہے لیکن اسکے فقدان کے وقت لب دریا سے اگر کوئی وضو کرے تو شارع کی نظر میں وضو کے حسن و کمال میں کسی طرح کا کوئي نقص نہیں آۓ گا انہیں وسائل کو امور انتظامیہ و عادیہ کہا جاتا ہے* خوب سمجھ لو اور اگر کوئی شخص ان وسائل کو مکملات اور محسنات مقاصد سمجھے یا مقام مدح میں اسکو ذکر کرے تو اسکے حق میں یہ وسائل بدعت قرار پائینگے۔
امر انتظامی کے جواز کی ٦ شرطیں ہم پہلے لکھ چکے ہیں، انکو تفصیل سے دیکھنا ہو تو پچھلے مضمون کو تلاش کر لیں، یہاں فقط ۱ شرط ذکر کرتا ہوں جو موضوع سے متعلق ہے۔
وہ شرط یہ ہے کہ امرانتظامی کے جائز ہونے کے لیۓ ضروری ہے کہ *اپنے خاص وسیلہ اور امر انتظامی پر فخر نہ کرے اور نہ مقام مدح میں اسکو ذکر کرے ورنہ بدعت لازم آۓ گی۔ مثلاً اگر رسي ڈول سے پانی کھینچ کر وضو کرنے والا اپنے وضو پر فخر کرے یا دوسرے لوگ اسکی تعریف کرنے لگیں کہ زید کے وضو کے کیا کہنے ما شا الله زيد تو رسی ڈول سے پانی کھینچ کر وضو کرتا ہے، تو ایسی صورت میں زید کے لیۓ رسی ڈول سے پانی کھینچ کر وضو کرنا بدعت قرار پاۓ گا*
بالکل یہی حال مروجہ تبلیغی جماعت سے منسلک ان علماء کا ہے جنکا یہ قول اوپر مذکور ہوا کہ *اس کام کو اللہ تعالی موافقت اور مخالفت سے آگے نکال چکا ہے*
اب اہل انصاف اگر غور فرمائیں تو اس جملہ میں شریعت کے ایک امر مطلق تبلیغ کی ادائگی کے لیۓ استعمال ہونے والے ایک امر انتظامی کو *نہ صرف یہ کہ مقام مدح میں بیان کیا جارہا ہے بلکہ اسپر علی الاعلان فخر کیا جا رہا ہے حتی کہ اس امر انتظامی کو تنقید سے بالا تر قرار دیا جا رہا ہے، اور یہی بدعت کی شان ہوتی ہے، یہ جملہ ایسا ہی ہے کہ زید رسی ڈول سے پانی کھینچ کر وضو کرنے پر اصرار بھی کرے اور لوگوں سے یہ کہنے لگے کہ اللہ نے رسی ڈول سے پانی کھینچ کر وضو کرنے کو موافقت اور مخالفت سے آگے نکال دیا ہے، کوئی چاہے ایک ہزار پوسٹر لگادے یا ایک ہزار کتابیں رسی ڈول سے پانی کھینچ کر وضو کرنے کے خلاف لکھ دے اس سے کوئی نقصان نہیں ہونے والا*
اب اہل عقل ہی سے مخاطب ہوکر کہتا ہوں کہ غور فرمائیں کہ تنقید سے بالا تر ہونا, یہ شان تو دین کی ہوتی ہے کہ مخالفین کی مخالفت دین صادق کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتی چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے : هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَىٰ وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ۔
*تو وہ ترتیب جو ١٣٥٠ سال بعد جاری کی گئی اور امر انتظامی کی حیثیت سے جاری کی گئی اس ترتیب پر اعلانیہ تفاخر، دیگر قیودات مباحہ میں سے ایک مخصوص قید مباح پر اصرار اور اس امر انتظامی کو تنقید سے اوپر اٹھادینا یہ اس ترتیب اور امر انتظامی کے بدعت ہونے کی بین دلیل نہیں تو اور کیا ہے۔*
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں