*جواز کو رکھیۓ آپ لپیٹ کے اپنی جیب میں - مولانا سعد کاندہلوی*
✍️ *مفتی ارشد دہلی والا*
۲۲ مئی ٢٠٢٦ کل ہند علماء کے جوڑ میں مولانا سعد صاحب نے بیان کے دوران جواز جو کہ منجملہ احکام شرعیہ میں سے ہے اسکی مذمت کرتے ہوۓ کہا کہ *جواز کو رکھیۓ آپ لپیٹ کے اپنی جیب میں*، پھر اسی سال مارچ کے مہینہ میں ممبئی والوں کے جوڑ میں فجر بعد کے بیان میں ۱ گھنٹہ ۵۳ منٹ پر یہ کہا : *جواز ہی آدمی کو سنت سے روکتا ہے، جواز اور صحابہ میں تضاد ہے، یہ آپکی حماقت ہے کہ آپ جواز کی تردید کو برداشت نہیں کرتے سنت کے مقابلہ میں، جواز کا قلادہ آپکے گلے میں پڑا ہوا ہے۔* انتھی الغلو
مولانا سعد صاحب کے مذکورہ بالا اقوال سے صاف پتہ چلتا ہے کہ انکے نزدیک جواز ایک قابل رد اور مذموم شیء ہے جبکہ جواز منجملہ احکام شرعیہ میں سے ہے، *جب فقهاء کہتے ہیں کہ فلاں کام مباح اور جائز ہے در اصل وہ یہ دعویٰ کر رہے ہوتے ہیں کہ اسکے فعل پر نہ تو شارع کی جانب سے کوئی ثواب ہے اور نہ اسکے ترک پر کوئی گناہ ہے، اہل عقل جانتے ہیں کہ یہ چیز بدون شارع کے بتلاۓ معلوم نہیں ہو سکتی تو گویا اباحت اور جواز بھی منجملہ احکام شرعیہ میں سے ہوۓ ہاں اختلاف اگر کسی نے کیا ہے تو وہ اہل اعتزال ہیں چنانچہ علامہ بدر الدین زرکشی رح متوفی ٧٩٤هج اپنی کتاب البحر المحيط في أصول الفقه میں لکھتے ہیں *الْإِبَاحَةُ حُكْمٌ شَرْعِيٌّ خِلَافًا لِبَعْضِ الْمُعْتَزِلَةِ* (اباحت ایک شرعی حکم ہے جس سے معتزلہ نے اختلاف کیا ہے) پھر آگے حضرت لکھتے ہیں
*أَجْمَعُوا عَلَى أَنَّ الْمُبَاحَ لَا يُسَمَّى قَبِيحًا،*(فقهاء اصوليين کا اس بات پر اجماع ہے کہ مباح کام کو قبیح یعنی برا کام نہیں کہا جاۓ گا)
جب فقہاء اور اصولیین کے نزدیک مباح اور جواز ایک حکم شرعی ہے اور اسکو برا کہنا درست نہیں ہے پھر جواز کی تردید اور مذمت کیسے جائز ہوئی ؟ آپ خود غور فرمائیں کہ مباح اور جائز کام ہوتا ہی وہ ہے جسکا ترک عند الشرع قابل ملامت نہ ہو اور جو عند الشرع قابل ملامت نہ ہو اسپر مجمع عام میں ملامت کرنا یہ تغییر حکم شرعی نہیں تو اور کیا ہے، پھر تماشا تو دیکھو کہ مولانا سعد صاحب کا رد کسي مخصوص محکوم بالجواز پر نہیں بلکہ نفس حکمِ جواز پر ہے کہ کہتے ہیں *جواز کو رکھیۓ آپ لپیٹ کے اپنی جیب میں* اسپر تعدی حدود اللہ کا حکم کیا لگتا یہ تو تردید حدود اللہ ہے، اللہ تعالیٰ اس غلو سے امت کی حفاظت فرماۓ۔
*گزشتہ سال مولانا سعد صاحب نے میوات کے اجتماع میں یہ بھی کہا تھا کہ آپکے نزدیک سنت پر عمل کرنا کوئی فرض نہیں ہے؟ اس زمانے میں بے دینی کا سبب یہی ہے کہ آپ کہتے ہیں سنت ہے فرض نہیں ہے۔* انتھی الغلو
جبکہ مختلف فنون واصطلاحات میں سنت کے مختلف معانی ہیں، جو حسب ذیل ہیں:
الف: فقہ میں احناف کے نزدیک سنت کا اطلاق اس حکم پر ہوتا ہے جو فرض اور واجب کے مقابلہ میں ہو۔ *بھلا جب سنت اور فرض کا درجہ ہي الگ الگ ہے تو سنت پر عمل کرنا فرض کیوں کروانا چاہتے ہیں مولانا سعد صاحب؟*
ب: کبھي سنت کا اطلاق الطريقة المسلوكة المرضية في الدين پر ہوتا ہے
ج:کبھی سنت کا اطلاق بدعت کے مقابل میں ہوتا ہے، اس وقت اس کے مصداق میں کل شریعت داخل ہوگی۔
د: اصولیین کے نزدیک سنت کا اطلاق حضرت نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صادر شدہ ان اقوال وافعال پر ہوتا ہے جو تشریع کا پہلو رکھتے ہوں۔
*فرض واجب سنت مستحب اور مباح کے فقہي مراتب کے امتیاز کو ختم کرنا اور ایک کو دوسرے میں ضم کرنا بھلا یہ فقاہت ہے یا حماقت؟*
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں