اہل السنۃ والجماعۃ علمائے دیوبند کے منہج و مسلک کا ترجمان

ہفتہ، 6 جون، 2026

ہر کچے پکے مکان میں مستورات کی جماعت داخل ہو کر رہے گی - مفتی ارشد دہلی والا

 


*ہر کچے  پکے مکان میں مستورات کی جماعت داخل ہو کر رہے گی*


✍️ *مفتی ارشد دہلی والا* 


مفتی تمکین صاحب یوپی نے بلند شہر جوڑ میں بیان کرتے ہوۓ فرمایا : کہ اس حدیث کا اسکے علاوہ کوئی مطلب ہی نہیں جو *آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : بیٹی، تیرے ابا کا لایا ہوا یہ دین ہر کچے پکے مکان میں داخل ہوکر رہیگا اس حدیث کا اسکے علاوہ اور کوئی مطلب ہی نہیں کہ ہر گھر میں مستورات کی جماعت داخل ہو کر رہیگی، اس حدیث کا صرف اور صرف مطلب یہ ہے کہ ہر گھر میں مستورات کی جماعت داخل ہو کر رہیگی۔*


یہ حال ہے تبلیغی جماعت سے جڑے ہوۓ علماء کا کہ جو ترتیب مروجہ تبلیغی جماعت نے ١٤٠٠ سال بعد جاری کی ہے اس ترتیب کو حدیث رسول کا ایسا مصداق قرار دے رہے ہیں کہ باقی تمام مصادیق کی نفی کر رہے ہیں، کہ اس حدیث کا صرف اور صرف مطلب یہ ہے کہ ہر گھر میں مستورات کی جماعت داخل ہو کر رہے گی۔ 

تعجب کی بات ہے کہ بدعت بدعتی کو کس طرح اندھا کردیتی ہے کہ اپنی مخترعہ ترتیب کے علاوہ بدعتی کو کچھ نظر نہیں آتا، وہ یہ بھی نہیں سوچتا کہ میری جس ترتیب کو میں حدیث رسول کا مصداق وحید قرار دے رہا ہوں یہ ترتیب تو نہ صحابہ سے ثابت ہے نہ تابعین سے ثابت ہے اور نہ ١٤٠٠ سالہ اسلامی تاریخ میں اسکا نام و نشان ہے، بدعتی یہ بھی نہیں سوچتا کہ اگر یہی معنی حدیث کا متعین ہے تو صحابہ اور تابعین کے دور میں مستورات کی جماعتوں کے نکلنے کی روایات کیوں نہیں ملتی؟ کیوں مسجد نبوی سے مستورات کی جماعت مسجد قبا اور مسجد قبلتین اور دیگر مساجد کے اطراف کے گھروں میں نہیں پہنچیں؟ کیوں مدینہ منورہ کی مستورات کی جماعت کا قیام مکہ مکرمہ کے صحابہ کے گھروں میں نہیں ملتا اور نہ اسکے بر عکس کا ثبوت ہے؟ 

یعنی مفتی ہوکر بیان کی مسند پر بیٹھکر انسان کتنا غلط بیانی کر سکتا ہے ؟ اور ڈھٹائی تو دیکھو کہ حدیث کا اسکے علاوہ کوئی مطلب ہی نہیں ہے۔   سارے صحابہ سارے تابعین سارے فقہاء سارے اصولیین سارے محدثین سارے مفسرین کسی نے اس حدیث کو سمجھا ہی نہیں، اگر سمجھا ہے تو ١٤٥٠ سال گزرنے کے بعد مروجہ تبلیغی جماعت سے منسلک مفتی تمکین صاحب نے سمجھا ہے جو شاید مجتہد مطلق کے درجہ پر فائز ہیں۔ 

مجھے تو اب ایسا لگنے لگا ہے کہ قرآن و سنت سے مسائل نکالنے میں اصل اجتھاد تو اب شروع ہوا ہے، ۱٤٥٠ سال تک یہ امت بانجھ تھی کبھی کوئی مجتہد ہوا ہی نہیں، جو استنباط و استخراج کا کام دور صحابہ سے رکا ہوا تھا وہ اب دوبارہ شروع ہو چکا ہے۔

مروجہ تبلیغی جماعت کا ہر واعظ چاہے عالم ہو یا جاہل استنباط و استخراج کے لیۓ نصوص پر ایسے حملہ کرتا ہے جیسے بھوکا شیر بکری پر، مروجہ تبلیغی جماعت میں لگ کر کچھ ملے نہ ملے درجہ اجتہاد سب کو مفت میں بٹ رہا ہے۔ گلی گلی نکڑ نکڑ نماز پڑھانے کے لیۓ امام ملے نہ ملے مجتہد ضرور مل جاۓ گا۔ اور نصوص چاہے طہارت و عبادت  سے متعلق ہوں یا نکاح و طلاق سے، صرف و رہن سے متعلق ہوں یا شفعہ اور قضاء سے ہر نص سے مروجہ تبلیغی جماعت پر استدلال کیا جا سکتا ہے، جو جتنا دور کا استدلال لاتا ہے وہ اتنا بڑا مجتہد تصور کیا جاتا ہے۔ 

فقہ البخاری فی تراجمہ والا جملہ بھی ان مجتہدین کے آگے شرمسار ہے۔ 

اللہ تعالیٰ ایسے مجتہدین ضالین سے امت مسلمہ کی اور دین محمدی علی صاحبہا الصلاۃ والسلام کی حفاظت فرماۓ۔


جانتا ہوں کچھ سخت الفاظ میرے قلم سے نکل رہے ہیں لیکن مجھے معاف کرنا اس قلم کو روکنا اب مشکل ہوتا جارہا ہے۔


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

اہم روابط

  • darulifta-deoband.com
  • sarbakaf.com

آمد و رفت (پیج ویوز)

کتاب کی درخواست کریں

نام

ای میل *

پیغام *