*اگر امام ابو حنیفہ کے خلاف صاحبین کے قول پر عمل کرکے بھی ہم حنفی ہیں تو مولانا سعد کے کچھ غلط اقوال کو ترک کرکے بھی ہم انکے ساتھ ہی جڑے رہیں تو کیا مضائقہ ہے - محترم مولانا فضل الرحمن اعظمی جنوبی افریقہ*
✍️ *مفتی ارشد دہلی والا*
مولانا محترم نے مولانا سعد صاحب کو مقیس بنا کر امام ابوحنیفہ پر قیاس کرتے ہوۓ یہ کہا کہ جس طرح امام صاحب کے قول کے خلاف عمل کرنے سے کوئی حنفیت سے خارج نہیں ہوتا اسی طرح اگر ہم مان لیں کہ مولانا سعد صاحب کے کچھ غلط افکار و نظریات ہیں بھی تو ہم انہیں ترک بھی کرینگے اور اس کے باوجود ہم مولانا سعد اور نظام الدین کے ساتھ جڑے بھی رہینگے۔
مولانا موصوف کو بڑی غلط فہمی ہوئی ہے کہ انہوں نے مولانا سعد صاحب کی خلاف شرع باتوں اور بدعات کو امام ابوحنیفہ رح کے بعض ان اقوال پر قیاس کر لیا جن پر علماء احناف فتویٰ نہیں دیتے یا جن مسائل میں صاحبین یا انمیں سے کسی ایک کے قول کو ترجیح دیتے ہیں۔ شتان ما بینهما۔
صاحبین یا امام زفر کا امام ابو حنیفہ رح سے اختلاف کی نوعیت بالکل جدا ہے اور علماء حقہ کا مولانا سعد صاحب سے اختلاف کی نوعیت بالکل جدا ہے آپ جیسی علمی اور فہمیدہ شخصیت سے اس طرح کی تشبیہ اور ایک کو دوسرے پر قیاس کرنا موجب حیرت نہ ہو تو کیا ہو۔
پہلا مقدمہ تو آپکے حضور یہ پیش ہے کہ مبتدع ضال سے اجتناب کرنا شرعا مامور بہ ہے جسکو آپ بھی تسلیم کرینگے اور اگر وہ مبتدع ضال اپنی بدعت کا داعی بھی ہو تو صفت ضلال میں إضلال کا بھی اضافہ ہوجاتا ہے اور ایسے شخص سے اجتناب شرعا مزید اہتمام کا متقاضی ہے۔
دوسرا مقدمہ آپکے حضور یہ پیش کرنا ہے کہ ائمہ ثلاثہ کا آپس میں جو بھی اختلاف رہا وہ ان مسائل میں تھا جو موجود بوجود شرعی تھے جبکہ مولانا سعد صاحب جن مسائل مخترعہ کے اثبات کے درپہ ہیں جسکی بنیاد پر علماء انسے اختلاف کر رہے ہیں وہ مسائل تو موجود بوجود شرعی ہی نہیں۔
اس اجمال کی تفصیل کے لیۓ حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوری نور اللہ مرقدہ کی تحریر کا ایک چھوٹا ٹکڑا براہین قاطعہ سے پیش کرنا چاہتا ہوں ملاحظہ فرمائیں، حضرت لکھتے ہیں :
*اب سنو کہ وجود شرعی اصطلاح اصول فقہ میں اسکو کہتے ہیں کہ بدون شارع کے بتلانے کے اور فرمانے کے معلوم نہ ہوسکے اور حس اور عقل کو اسمیں دخل نہ ہو پس اس شیء کا وجود شارع کے ارشاد پر موقوف ہوا خواہ صراحۃ ارشاد ہو یا اشارۃ و دلالۃ پس جب کسی نوعِ ارشاد سے حکم جواز کا ہوگیا تو وہ شیء وجود شرعی میں آگئی اگرچہ اسکی جنس بھی خارج میں نہ آئی ہو اور معلوم رہے کہ سب احکام شرعیہ موجود بوجود شرعیہ ہی ہیں۔ کیونکہ حکم حلت اور حرمت کا بدون شارع کے ارشاد کے معلوم نہیں ہو سکتا پس جسکے جواز کا حکم کلیۃ ہوگیا وہ بجمیع جزئیات شرع میں موجود ہوگیا اور جسکے عدم جواز کا حکم ہوگیا تو شرع میں اسکا عدم ثابت ہوگیا اور وجود اسکا مرتفع ہوگیا پس یہ حاصل ہوا کہ جسکے جواز کی دلیل قرون ثلاثہ میں ہو خواہ وہ جزئیہ بوجود خارجی ان قرون میں ہو یا نہ ہو اور خواہ اسکی جنس کا وجود خارج میں ہو یا نہ ہو وہ سب سنت ہے اور وہ بوجود شرعی ان قرون میں موجود رہے اور جسکے جواز کی دلیل نہیں تو خواہ وہ ان قرون میں ہوا یا نہ ہوا وہ سب بدعت ضلالۃ ہے اور یہ بھی سنو کہ اس زمانہ کا شیوع بلا نکیر دلیل جواز کی ہے اور نکیر ہونا اسپر دلیل عدم جواز کی ہے علی ہذا اسکی جنس پر نکیر ہونا دلیل اسکے عدم جواز کی اور قبول کرنا جنس کا دلیل اسکے جواز کی ہوئی ہے اور یہ بھی یاد رہے کہ کسی بھی حکم کا اثبات قرآن و حدیث سے ہی ہوتا ہے اور قیاس مظہر حکم کا ہے مثبت حکم کا نہیں ہوتا پس جو قیاس سے ثابت ہوتا ہے وہ بھی کتاب و سنت ہی سے ثابت ہوتا ہے۔۔۔* انتھی قول الشیخ
تو بطور نتیجہ ہم کہتے ہیں کہ وہ تمام امور جو قرون ثلاثہ میں موجود بوجود شرعی ہوں انپر دین کا اطلاق درست ہے اور جب دین کا اطلاق درست ہوا تو انمیں سے کسی مجتہد کے قول پر عمل دین پر عمل ہوا کیونکہ مجتہد کے قول کی بنا دلیل شرعی پر ہوتی ہے تو جب امام ابوحنیفہ کا قولِ متروک بھی دلیل شرعی پر مبنی ہوا گو کسی وجہ سے مفتی بہ نہ ہوا اور صاحبین یا امام زفر کے قول کی بنا بھی دلیل شرعی ہی ہوئی تو دونوں فریق کے اقوال مبنی بر دلائل شرعیہ ہونے کی وجہ سے اپنے اپنے حق میں موجود بوجود شرعی ہوۓ اور دین قرار پاۓ *اگرچہ امام صاحب کا قول کسی وجہ سے مفتی بہ نہ بھی ہوا ہو لیکن دلیل شرعی پر مبنی ہونے کی وجہ سے موجود بوجود شرعی ہوا اور وجود شرعی کی وجہ سے بدعت لازم نہ آئی تو جب امام صاحب ان اقوال کو اختیار کرنے کی وجہ سے (جو کہ علماء احناف کے یہاں مفتی بہ نہیں) صاحب بدعت ضال اور مضل نہ ہوۓ تو انکے ساتھ جڑے رہنے میں اور حنفیت کو اختیار کرنے میں کوئی قبح شرعی بھی نہیں* برخلاف ان امور کے جنمیں علماء حقہ کا مولانا سعد صاحب سے اختلاف ہے کیونکہ وہ امور موجود بوجود شرعی ہیں ہی نہیں اور جو امر موجود بوجود شرعی ہی نہ ہو وہ امر امر دین نہیں ہوتا بلکہ اسی پر بدعت کا اطلاق ہوتا ہے اور اسی کی طرف اشارہ ہے ما لیس منه فهو رد میں، چنانچہ مولانا سعد صاحب کے نت نیۓ استنباطات، فاسد اجتھادات، جن کے ذریعہ وہ تبلیغ کی ایک مخصوص ترتیب اور امر انتظامی کو دین محمدی ثابت کرنا چاہتے ہیں وہ موجود بوجود شرعی ہی نہیں کہ اسکے دلائل سرے سے موجود ہی نہیں اور جب یہ امور موجود بوجود شرعی ہی نہیں تو یہ امور، دین سے خارج قرار پاۓ اور بدعت کو مستلزم ہوۓ نتیجتا امر اول کا ثانی پر قیاس باطل ہوگیا اور بدعت کے ثبوت کے ساتھ جب کذب فی حدیث الرسول اور تفسیر بالرأی المذموم لاکھوں کے مجمع میں روز کا معمول بنا رہا تو مولانا سعد صاحب مبتدع کے ساتھ ضال اور مضل بھی قرار پاۓ اور مضمون کے شروع میں ہم لکھ چکے ہیں کہ مبتدع ضال مضل سے کلی اجتناب کرنا شرعا مامور بہ ہے۔
تو اب دونوں کا حکم جدا جدا واضح ہو چکا کہ امام صاحب کے قول کو ترک کرنے کے بعد بھی انسے جڑے رہنے میں کوئی برائی نہیں بلکہ تقلید کے وجوب لغیرہ کی وجہ سے ضروری بھی ہے کیونکہ مجتہد کا ہر قول دلیل شرعی پر مبنی ہونے کی وجہ سے موجود بوجود شرعی ہوا نتیجتا دین قرار پایا تو بدعت کا ثبوت نہیں اور ضلال و اضلال کا تو امام صاحب میں شائبہ بھی نہیں جبکہ مولانا سعد صاحب کا معاملہ اسکے بالکل برخلاف ہے تو انسے اجتناب کلی کرنا شرعا واجب ہوا۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں