اہل السنۃ والجماعۃ علمائے دیوبند کے منہج و مسلک کا ترجمان

ہفتہ، 6 جون، 2026

مولانا سعد صاحب کے خلاف جتنے غلط فتاوی حسد اور عداوت کی بنیاد پر شائع ہوۓ ہیں؟ مفتی ارشد دہلی والا

 


*وہ نام زہر کا رکھ دیں دوا تو کیا ہوگا*

*کہیں جو خون کو رنگِ حنا تو کیا ہوگا* 


✍️ *مفتی ارشد دہلی والا*


مولانا سعد صاحب کاندہلوی کے دفاع میں  ایک پوسٹ سوشل میڈیا پر گردش کرتی ہوئی اس عاجز کی سکرین تک پہنچی جسمیں مولانا سعد صاحب کے کسی معتقد نے دفاع کرتے ہوۓ یہ لکھا کہ حضرت مولانا سعد صاحب کے خلاف جتنے غلط فتاوی حسد اور عداوت کی بنیاد پر شائع ہوۓ ہیں اگر اسکا دو فی صد بھی کسی اور عالم کے خلاف ہوتا تو شاید وہ میدان سے غائب ہوجاتا لیکن ہمارے حضرت چٹان کی مانند ثابت قدم ہیں الخ۔ 


بندہ عرض کرتا ہے کیا کسی کے خلاف فتاوی کا شائع ہونا پھر اس شخص کا فتاوی کے خلاف اپنی پرانی روش پر اڑے رہنا کیا یہ بھی  ممدوحات شرعیہ میں سے ہے؟

یہ مدح کا عجیب پیمانہ بنایا ہے دفاع کرنے والے نے کہ دلائل شرعیہ جسکے قبح کو بیان کرے اسی  پر اڑے رہنے کی وہ تحسین کررہا ہے۔ 


*الٹی ہی چال چلتے ہیں دیوانگانِ عشق*

*آنکھوں کو بند کرتے ہیں دیدار کیلئے*


اسکی مثال ایسی ہی سمجھو کہ زید کو یہ بری عادت لگی کہ اپنے ہر گاہک کو مال میں ملاوٹ کرکے دینے لگا کچھ گاہکوں نے اسکے خلاف پولیس میں رپورٹ بھی لکھوادی لیکن زید باز نہ آیا اور برابر یہ فعل قبیح انجام دیتا رہا یہاں تک کہ پولیس میں یکے بعد دیگرے دسیوں رپورٹ اسکے خلاف جمع ہوگئیں تو مولانا سعد صاحب کا دفاع کرنے والا یہ شخص آیا  اور اسنے زید کی مدح شروع کردی کہ زید کی ثابت قدمی کے کیا کہنے کہ دسیوں رپورٹ پولیس اسٹیشن میں زید کے خلاف جمع ہو چکیں *لیکن مجال ہے کہ کوئی زید کو مال میں ملاوٹ کرنے سے روک دے۔ زید کی جگہ اگر کوئی اور ملاوٹ کرنے والا ہوتا تو ابھی تک دکان چھوڑ کر فرار ہو چکا ہوتا۔*


بھلا مال میں ملاوٹ کرنے کو بھی کوئی مقام مدح میں بیان کرنے لگے اسی طرح دلائل شرعیہ کے ذریعہ کسی چیز کا قبح ثابت ہوجانے کے بعد بھی کوئی اسی چیز پر اڑے رہنے کو مقام مدح میں بیان کرے تو ایسے علماء کو دور سے سلام ہے۔ 


کاش کے آپ مدح و ذم کا معیار دلائل شرعیہ کو بناتے اور مقبوحات شرعیہ کو مقبوحات تسلیم کرتے اور ممدوحات شرعیہ ہی کو ممدوحات قرار دیتے۔

لیکن آپ تو مقبوحات شرعیہ کو ممدوحات بناکر پیش کر رہے ہیں پھر ان مقبوحات پر فخر کر رہے ہیں۔ 

یا للعجب

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

اہم روابط

  • darulifta-deoband.com
  • sarbakaf.com

آمد و رفت (پیج ویوز)

کتاب کی درخواست کریں

نام

ای میل *

پیغام *