*اللہ نے نظام الدین کو منتخب کرلیا ہے (انتخاب مقبول و غیر مقبول) - تیسری قسط مفتی سالم صاحب اشاعتی کو جواب*
*مفتی سالم صاحب اشاعتی* : ارشد ڈھیری نے سب سے بڑی علمی خیانت اور جہالت کا ثبوت یہ دیا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے "انتخابِ تکوینی برائے دین"(دینی خدمت کے لیے چننا) کو "تکوینی فیصلے"(جیسے مودی، یوگی یا اسرائیل کا دنیا میں اقتدار پانا) کے ساتھ خلط ملط کر دیا۔
منہ توڑ جواب: شریعت اور عقیدے کی رو سے، دنیا میں ظلم، کفر اور ظالموں کا اقتدار اللہ کے "تکوینی فیصلے اور مشیئت" (Universal Will) کے تحت آزمائش کے طور پر ہوتا ہے، اسے اللہ کا **"انتخابِ مقبول"** یا **"اصطفاء"** (Chosen for goodness) نہیں کہا جاتا۔ جب ایک عالم دین یہ کہتا ہے کہ "اللہ نے نظام الدین کو دین کے کام کے لیے منتخب کیا" تو اس کا مطلب **انتخابِ مقبولیت** ہوتا ہے، جس کا ثبوت اس جگہ سے جاری ہونے والی عالمگیر ہدایت اور کروڑوں انسانوں کی اصلاح ہے۔ ظالموں کے عروج کو "اللہ کا مقبول انتخاب" کہنا سراسر گمراہی اور علمِ عقائد سے جہالت ہے۔
✍️ *مفتی ارشد دہلی والا*
*الجواب باسم ملهم الصواب*
مفتی سالم صاحب اشاعتی کی بات کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا انتخاب تکوینی کبھی براۓ دین و تشریع ہوتا ہے اور کبھی انتخاب تکوینی دین و شریعت سے قطع نظر فقط براۓ تکوین ہوتا ہے اور ان دونوں میں فرق انتخاب مقبول اور غیر مقبول سے کیا کہ اگر اس انتخاب تکوینی سے عالمگیر ہدایت پھیلے یا کروڑوں افراد کی اصلاح ہو تو وہ انتخاب مقبول ہوا اور اگر اس انتخاب سے یوگی مودی اسرائیل جیسے ظالموں کا عروج ہو تو وہ انتخاب غیر مقبول ہوا۔
ہم کہتے ہیں کہ چلو آپ ہی کے اس اصول کو جسکو آپنے AI سے مستعار لیا ہے اسی کو سامنے رکھ کر علت العلل پر غور کریں کہ آپنے انتخاب مقبول اور غیر مقبول کی تقسیم کرکے جو بعض امور کو مفترق اور بعض کو مفترق عنہ بنایا اور حکمین متبائنین نکال کر مفترق(انتخاب مقبول) کا حکم الگ کیا اور مفترق عنہ (انتخاب غیر مقبول) کا حکم الگ کیا ہے اسکی بنیاد کیا ہے ؟ کیا آپنے علت فارقہ پر بھی غور کیا ؟
اب ہم آپکی توجہ اس علت فارقہ کہ طرف موڑتے ہیں ذرہ غور فرمائیں پھر اسی علت فارقہ سے ہم اپنا دعوی بھی ثابت کرینگے۔
آپکا یہ دعویٰ کہ ہدایت پھیلنا اور افراد کثیرہ کی اصلاح ہونا یہ انتخاب مقبول ہے اور ظالموں کا عروج انتخاب غیر مقبول ہے اگر اہل انصاف غور فرمائیں تو خود اس فیصلہ کی بنیاد تکوین نہیں بلکہ تشریع یعنی دلائل شرعیہ ہیں کہ کسی بھی چیز کے حسن و قبح کا علم شرعی دلائل کا محتاج ہوتا ہے اور بلا حسن و قبح کے جانے نہ کسی چیز کو انتخاب مقبول قرار دیا جاسکتا ہے اور نہ انتخاب غیر مقبول قرار دیا جا سکتا ہے کیونکہ یہ دعویٰ خود محتاج ہے حسن و قبح کے علم کا اور وہ محتاج ہے دلائل شرعیہ کا تو معاملہ گھوم گھماکر تکوین سے تشریع پر آ پہنچا۔
تو دلائل شرعیہ سے جب کسی چیز کا حسن معلوم ہوا کہ فلاں چیز ہدایت پھیلنے اور افراد کثیرہ کی اصلاح کا ذریعہ ہے تو اسکو آپنے انتخاب مقبول میں شمار کرلیا اور ظالموں کے عروج کے قبح کی وجہ سے جسکا قبح خود تشریعا ثابت ہوا اسکو آپنے انتخاب غیر مقبول میں شمار کردیا۔
ہم اس اصول اور تقسیم سے صد فیصد متفق ہیں۔
اب آپ نے جن دو چیزوں کو مفترق مفترق عنہ بتاکر حکمین متبائنین نکالے تھے ہم ان دونوں کو مقیس مقیس علیہ ثابت کرکے دونوں کا حکم ایک بتا دینگے، *اصول آپکا دلیل آپکی اور دعویٰ ہمارا ثابت ہوگا إن شا اللہ تعالی۔*
یوگی مودی اسرائیل اور ظالموں کے عروج کو جو آپنے انتخاب غیر مقبول قرار دیا تو اسکی علت ہم بتا چکے کہ وہ وہ قبح ہے جو دلائل شرعیہ سے ثابت ہوا ہے تو بالکل اسی طرح مرکز نظام الدین کی طرف عوام کو راغب کرنا اور مولانا سعد کاندہلوی اور انکے متبعین کے افکار و نظریات کا قبح بھی تو دلائل شرعیہ ہی سے ثابت ہوچکا ہے تو یہ دونوں مفترق مفترق عنہ نہیں بلکہ مقیس مقیس علیہ ثابت ہوۓ گو آپنے علت فارقہ کو ذکر نہیں کیا لیکن ہم علت جامعہ کو ذکر کردیتے ہیں۔
*علت جامعہ* وہ یہ کہ دلیل شرعی سے جس طرح قبح شرعی یوگی مودی اسرائیل اور ظالم کے عروج کے لیۓ ثابت ہوا *اسی طرح مرکز نظام الدین اور مولانا سعد کاندہلوی اور انکے متبعین کے افکار و نظریات کا قبح شرعی بھی دلیل شرعی سے ثابت ہوچکا* چنانچہ جو حکم مقیس علیہ کا ہوگا تعدیہ کرکے مقیس کے لیۓ بھی ثابت ہوگا یعنی جس طرح یوگی مودی اسرائیل جیسے ظالموں کے عروج کو انتخاب غیر مقبول قرار دیا جاۓ گا *اسی طرح مرکز نظام الدین کے انتخاب کو بعد راہ حق سے بھٹک جانے کے انتخاب غیر مقبول قرار دیا جاۓ گا۔* اور سنت اللہ بھی اسی طرح جاری ہے کہ اسکی سیکڑوں مثالیں موجود ہیں کہ کوئی جگہ پہلے ہدایت پھیلنے کا مرکز بنی بعد میں اسی جگہ سے بے شمار گمراہیاں پھیلیں اسلیۓ یہ امر مستبعد بھی نہیں بلکہ اللہ کی سنت کے عین مطابق ہے۔ اور اس سے یہ بات بھی اظہر من الشمس ہو گئی کہ ہدایت اور اصلاح مرکز نظام الدین کے ساتھ لازم و ملزوم نہیں۔
*خلاصہ یہ نکلا کہ محترم مولانا فضل الرحمن صاحب اعظمی کے دعوی انتخاب کو اگر آپ انتخاب تشریعی مانو تو افتراء على الله ہے اور تکوینی مطلق مانو تو فیما نحن بصددہ مقام مقام تشریع ہے تو تکوین سے استدلال درست نہیں اور تکوینی غیر مقبول مانو تو ہمارا مدعی ثابت ہوتا ہے اور تکوینی مقبول تم اسکو ثابت کر نہیں سکتے کے دلائل شرعیہ سے قبح اسکا روز روشن کی طرح عیاں و بیاں ہوچکا۔*
عاقل کے لیۓ اتنا کافی ہے اور بے عقل سے ہمیں کیا شکایت۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں