اہل السنۃ والجماعۃ علمائے دیوبند کے منہج و مسلک کا ترجمان

ہفتہ، 6 جون، 2026

نظام الدین کو اللہ تعالیٰ نے منتخب کر لیا ہے (مفتی سالم اشاعتی اور AI دوسری قسط ) - مفتی ارشد دہلی والا

 


*نظام الدین کو اللہ تعالیٰ نے منتخب کر لیا ہے (مفتی سالم اشاعتی اور AI دوسری قسط )*


✍️ *مفتی ارشد دہلی والا* 


مفتی سالم اشاعتی ہماری ہر تحریر کا جواب AI سے مانگتا  ہے جسکو وہ خود قبول کرچکا ہے پھر اس جواب میں کانٹ چھانٹ کرکے تنابز بالألقاب کے گناہ کا ارتکاب کرکے اس تحریر کو شائع کرتا ہے لیکن مصنوعی ذہانت میں اگرچہ ذہانت موجود ہے لیکن پھر بھی ہے تو مصنوعی اور جب اسکا استعمال کوئی ایسا شخص کرے جسکی بدعت اور ضلالت قرآن و سنت کے دلائل سے واضح ہوچکی تو پھر یہ  شخص اس AI سے جواب طلب کرنے کے لیۓ جو پرامپٹ دیگا وہ اپنی مخصوص بدعت  کو سامنے رکھ کر ایسا پرامپٹ دیگا جس سے اسکی بدعت و ضلالت کا دفاع بھی ہو جاۓ اور بدعت پر رد کرنے والے علماء کا جواب بھی بن جاۓ۔ 


اب اسنے مولانا  فضل الرحمن صاحب اعظمی کے ناکام دفاع کے لیۓ AI سے مستعار لیکر جو مضمون شائع کیا اسکو دیکھیۓ پھر اسپر ہمارا جواب بھی ملاحظہ فرمائیں۔ 


*مفتی سالم اشاعتی* : شریعت میں انتخاب دو طرح کا ہوتا ہے: 

ایک انتخابِ تشریعی

اور دوسرا انتخابِ تکوینی

جب کسی شخصیت، جماعت یا مقام سے اللہ تعالیٰ دین کا کوئی بڑا، عالمگیر اور تاریخی کام لے لے، تو اس کو اللہ کا تکوینی انتخاب کہا جاتا ہے۔ 

   قرآن کریم میں بنی اسرائیل کے ایک طالوت نامی شخص کے بارے میں (جو نبی نہیں تھے) فرمایا گیا: **"إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَاهُ عَلَيْكُمْ"** (بیشک اللہ نے اسے تم پر منتخب کیا ہے)۔ پس کسی مقبولِ بارگاہ چیز کو اللہ کا منتخب کردہ کہنا شریعت کی اصطلاح ہے، 

اس کے لیے وحی کی ضرورت نہیں ہوتی۔


*الجواب باسم ملهم الصواب*


 تمہیدا یہ بات سمجھو کہ مولانا فضل الرحمن اعظمی صاحب کا یہ کہنا کہ *نظام الدین کو اللہ نے منتخب کیا ہے* یہ دعوی براۓ دعوی نہیں تھا بلکہ مولانا محترم اسکو دلیل بناکر اولا مرکز نظام الدین اور مولانا سعد کاندہلوی کی حقانیت کا اثبات کر رہے تھے اور ثانیا جو عوام علماء حقہ کے فتاوی کی روشنی میں اس بدعت و ضلالت کی جگہ سے اپنے کو دور کر رہی تھی ایسے لوگوں کو دوبارہ اسی بدعت و ضلالت کی جگہ راغب کرنے کے لیۓ مولانا محترم نے یہ جملہ کہا کہ *نظام الدین کو اللہ نے منتخب کرلیا ہے اور اللہ سے بھول نہیں ہوئی ہے کہ غلط جگہ کو اللہ نے منتخب کر لیا ہو۔* 


تو جب معلوم ہوا کہ مولانا کا یہ جملہ دعوی محض نہیں بلکہ دلیل کے طور ہر تھا تاکہ مولانا سعد  کاندہلوی کی بدعات و خرافات کو  درست قرار دیا جا سکے تو یہ *دعوی نما دلیل ان دلائل شرعیہ کا ہرگز مقابلہ نہیں کرسکتی جنکے ذریعہ مولانا سعد کاندہلوی کا بدعتی ضال اور مضل ہونا ثابت ہوچکا ہے، جن دلائل شرعیہ کو متعدد فتاوی میں ملک و بیرون ملک کے دسیوں مفتیان کرام نے نقل کیا ہے*


ثانیا ادلہ اربعہ ٤  ہیں قرآن سنت اجماع اور قیاس مجتہد انکے علاوہ سے اگر کوئی شخص شرعا کچھ ثابت کرنے کی کوشش کریگا تو دھوکہ کھاۓ گا اور مولانا فضل الرحمن کا دعویٰ نما دلیل نہ تو آیت قرآنیہ ہے نہ حدیث رسول ہے اور نہ اجماع  اور قیاس ہے پھر اس دعوی نما دلیل سے استدلال کیونکر درست ہوا، خاص طور پر تب جبکہ جانب مخالف میں دلائل شرعیہ موجود ہوں۔


ثالثا علی سبیل التسلیم اسکو تکوینی انتخاب مان بھی لیا جاۓ تو تکوینی انتخاب یہ بھی ہے کہ یہودی اسرائیل قائم کریں تو کیا مفتی سالم اور مولانا فضل الرحمن صاحب اس تکوینی انتخاب کی وجہ سے سب میں یہ اعلان کرینگے کہ سارے لوگ اسرائیل کو مان لو  اور انسے دشمنی ختم کرلو اور انکو اپنا دوست بنا لو کیونکہ یہ اللہ تعالی کا تکوینی انتخاب ہے اور جو مودی اور یوگی مسلمانوں پر  طرح طرح کے ظلم ڈھا رہے ہیں تو کیا مولانا فضل الرحمن اور مفتی سالم اشاعتی یہ اعلان کرینگے کہ ان دونوں کو مان لو اور انکی خوب عزت کرو اور خوب انکی خدمت کرو اور جو بھی یہ تم پر ظلم کریں اسکو بسرو چشم قبول کرلو کیونکہ یہ اللہ تعالی کا تکوینی انتخاب ہے۔ اب اس جہالت پر انسان اپنا سر نہ پھوڑے تو کیا کرے؟ یہی حال ہوتا ہے جب کوئی مفتی فتویٰ نویسی کی لیۓ AI کا استعمال کرنے لگے۔ 


رابعا ہم تشریع کے مکلف ہیں نہ کے تکوین کے اور فیمانحن بصددہ یہ مقام مقام تشریع ہے تو جب تکلیف متعلق ہے تشریع سے تو مقام تشریع پر تکوین سے استدلال کرنا کیونکر درست ہوگیا ؟


خامسا : طالوت کے واقعہ سے استدلال درست نہیں کیونکہ انکے انتخاب کو قرآن نے خود بتادیا اور انتخاب من اللہ کو ہمنے وحی ہی پر موقوف کیا تھا تو یہ مثال ہمارے خلاف نہیں ہوئی۔


سادسا جب کسی فرد واحد کا ضلال و اضلال دلیل شرعی سے ثابت ہوچکا  تو عوام کو اسکی طرف راغب کرنے کے لیۓ اگر کوئی ایسا جملہ کہے تو ایسے جملہ کی وہی تاویل أنسب ہوگی جس سے عوام گمراہی سے بچے نہ کہ وہ تاویل جس سے عوام مزید گمراہی کا شکار ہو جاۓ پھر چاہے اس تاویل سے فرد واحد پر زد کیوں نہ پڑے کیونکہ فرد واحد کے مقابلے میں افراد کثیرہ کو بچانا اقرب إلی مقاصد الشریعہ ہے۔


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

اہم روابط

  • darulifta-deoband.com
  • sarbakaf.com

آمد و رفت (پیج ویوز)

کتاب کی درخواست کریں

نام

ای میل *

پیغام *