*نظام الدین کو اللہ نے منتخب کیا ہے اللہ سے بھول نہیں ہوئی ہے کہ غلط جگہ کو اللہ نے منتخب کرلیا ہو - مولانا فضل الرحمن اعظمی جنوبی افریقہ کا غلو اور اسکا جواب*
✍️ *مفتی ارشد دہلی والا*
*الجواب باسم ملهم الصواب*
کچھ احباب کی جانب سے ایک آڈیو موصول ہوئی جسمیں مولانا فضل الرحمن اعظمی (جنوبی افریقہ) نے یہ دعویٰ کیا کہ مرکز نظام الدین کو اللہ تعالیٰ نے منتخب کیا ہے اور اس انتخاب میں اللہ سے بھول نہیں ہوئی۔
تو اس تعلق سے یہ عاجز عرض کرتا ہے کہ جب غلو انسان کی عقل پر سوار ہوتا ہے تو انسان اسی طرح اول فول بکتا ہے، اب کوئی ان صاحب سے پوچھے کہ وحی کا دروازہ تو ١٤٠٠ سال پہلے بند ہوچکا وحی منقطع ہوچکی تو آپکے پاس کونسا فرشتہ خبر لیکر آیا اور یہ کسنے بتایا کہ اللہ نے مرکز نظام الدین کو منتخب کر لیا ہے؟
اگر انتخاب من اللہ کی یہ تاویل ہے کہ مرکز نظام الدین سے کروڑوں افراد جڑے ہوۓ ہیں اگر یہ اللہ کا انتخاب نہ ہوتا تو کیا اتنی بڑی تعداد مرکز نظام الدین سے جڑتی تو ہم کہینگے کہ اگر محض تعداد ہی منتخب من اللہ ہونے کا معیار ہے تب تو بریلویت بھی منتخب من اللہ ہوئی کہ بریلویوں کی تعداد اب بھی دیوبندیوں سے زیادہ ہے لیکن آپ بھی اسکو نہیں مانتے اور اگر تاویل یہ ہے کہ مرکز نظام الدین سے جڑنے کے بعد ہزاروں لوگوں کو ہدایت ملی اور انکی زندگیوں مین دین آیا تو یہ بات بھی بایں وجہ مردود و منقوض ہے کہ لوگوں کو ہدایت ملنے کی اصل علت مرکز نظام الدین نہیں بلکہ قرآن و سنت کی تعلیم ہے جسکی نقلی دلیل یہ ہے کہ ہدایت کو اللہ تعالیٰ نے کہیں بھی مرکز نظام الدین پر معلق نہیں کیا بلکہ قرآن و سنت پر معلق کیا ہے اور عقلی دلیل یہ ہے کہ ہدایت کا وجود و عدم یہ انتسابِ مرکز نظام الدین کے وجود و عدم پر دائر نہیں ہے کہ انتساب ختم تو ہدایت ختم اور انتساب ہوتے ہی منتسب مہدی ہوگیا، تو مرکز نظام الدین میں رہ کر بھی اگر کسی کو ہدایت ملی ہے تو اسمیں موثر قرآن و سنت کی تعلیم ہے نہ کہ مرکز نظام الدین جب اتنی بات معلوم ہوئی کہ شارع کے نزدیک ہدایت کے ملنے نہ ملنے میں مرکز نظام الدین کو کوئی دخل نہیں تو مرکز نظام الدین کے منتخب من اللہ ہونے کا دعویٰ کرنا سرے سے باطل رہا اور مولانا فضل الرحمن نے یہ دعویٰ کرکے اللہ پر جھوٹ باندھا ہے جبکہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے : *وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَىٰ عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِآيَاتِهِ ۗ إِنَّهُ لَا يُفْلِحُ الظَّالِمُونَ* *ترجمہ : اس سے بڑا ظالم کون ہوگا جو اللہ کا نام لیکر جھوٹ بولے اور اللہ کی آیات کو جھٹلاۓ یقینا یہ ظالم لوگ ہرگز فلاح نہیں پائینگے*
پھر یہ مولانا فضل الرحمن اعظمی جیسے لوگوں کے نزدیک جب حق مرکز نظام الدین کے ساتھ لازم و ملزوم ہوا تو انکے نزدیک حق کی معیاریت قرآن و سنت سے مرکز نظام الدین کی طرف منتقل ہوگئی گو یہ اسکا اقرار صاف لفظوں میں نہ کریں لیکن انکے قول و فعل کا تضاد اسکی بین دلیل بنی۔ اور یہ حق کی معیاریت کا انتقال ہی گمراہی کی اصل وجہ ہے چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ و سلب کا ارشاد ہے *تركتُ فيكم أَمْرَيْنِ لن تَضِلُّوا ما تَمَسَّكْتُمْ بهما : كتابَ اللهِ وسُنَّةَ نبيِّهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ* *ترجمہ : مینے تمھارے درمیان ۲ چیزیں چھوڑی ہے جب تک تم ان دونوں کو مضبوطی سے تھامے رہو گے ہرگز گمراہ نہیں ہو سکتے ۱) قرآن ۲) نبی کی سنت* صلی اللہ علیہ و سلم
تو اب مولانا فضل الرحمن جیسےلوگوں کو چاہیۓ کے قرآن و سنت کی معیاریت کی طرف لوٹیں اور شخصیت پرستی اور بنگلہ والی مسجد کی پرستی سے توبہ کریں۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں