اہل السنۃ والجماعۃ علمائے دیوبند کے منہج و مسلک کا ترجمان

ہفتہ، 6 جون، 2026

کیا مروجہ تبلیغی جماعت علماء و صلحاء کا اکرام و تعظیم کرنے کے دعوے میں سچی ہے؟ مفتی احمد صاحب خانپوری کی ہتک عزت کے تناظر میں - مفتی ارشد دہلی والا

 


*کیا مروجہ تبلیغی جماعت علماء و صلحاء کا اکرام و تعظیم کرنے کے دعوے میں سچی ہے؟ مفتی احمد صاحب خانپوری کی ہتک عزت کے تناظر میں*


✍️ *مفتی ارشد دہلی والا*


*تبلیغی جماعت کا یہ دعویٰ بالکل باطل ہے کہ ہم علماء اور صلحاء کا اکرام و تعظیم کرتے ہیں۔*

اسکی عقلی توجیہ سمجھو کہ اسم مشتق پر جب کوئی حکم لگتا ہے تو اسکا مأخذ اشتقاق بطور علت متعین ہوتا ہے۔ مثال درکار ہو تو قرآن سے لیجیۓ : *إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ* اس آیت میں اللہ کی محبت کا حکم توابین اور متطھرین پر لگا ہے تو اس محبت کی علت توبہ اور تطھر ہے۔ 


اب چونکہ اللہ تعالیٰ کا موصوف بصفت کذب ہونا بقول مولانا رشید احمد گنگوہی رح محال بالغیر ہے یعنی بالفعل اللہ تعالیٰ کی ذات اس سے پاک ہے کہ قضیہ کاذبہ کا خلق کرے اسلیۓ اللہ تعالیٰ کے اقوال میں صدق و کذب تلاش کرنا یقینا کفر ہے لیکن مخلوق کا حال اس سے جدا ہے کہ مخلوق بالفعل کذب کا ارتکاب کرسکتی ہے اس لیۓ زید عمرو یا بکر جب کسی اسم مشتق پر حکم لگائیں تو اسکو جانچا جا سکتا ہے کہ آیا یہ حکم کی علت ماخذ اشتقاق ہی ہے اور حکم لگانے والا سچا ہے  یا  حکم کی علت ماخذ اشتقاق نہیں اور حکم لگانے والا جھوٹا ہے۔ تو اگر کوئی یہ دعویٰ کرے کہ زید علماء کا اکرام کرتا ہے تو اس بات کے سچا ہونے کے لیۓ ضروری ہے کہ اکرام کی علت وہ علم ہو جسکے ساتھ علماء موصوف ہیں، اگر ایسا ہے تو بات سچ ہے ورنہ جھوٹ مثلاً اگر عقلا کسی وجہ سے یہ معلوم ہو جاۓ کہ زید کے اکرام کی علت علم نہیں تو زید کے حق میں یہ جملہ کہنا کہ زید علماء کا اکرام کرتا ہے جھوٹ ہوگا۔ 


اب مسئلہ یہ در پیش ہے کہ یہ کیسے معلوم ہو کہ حکم اکرام کی علت کیا ہے تو اسکو معلوم کرنے کا ایک طریقہ ہے وہ یہ کہ جسپر اکرام و تعظیم کا حکم لگایا جارہا ہے مثلا علماء تو اگر وہ موصوف باوصاف متعددہ ہوں جنمیں سے ایک صفت علم بھی ہو اور زید یہ کہے کہ میں علماء کا اکرام و تعظیم کرتا ہوں 

 تو دیکھا جاۓ گا کہ زید نے ان اوصاف متعددہ میں سے جس صفت پر اکرام و تعظیم کے حکم کو معلق کیا ہے آیا اس کا اکرام و تعظیم کا وجود و عدم اسی صفت (علم) کے وجود و عدم کے ساتھ دائر ہے یا نہیں اگر تو زید کا اکرام و تعظیم صفت علم کے وجود و عدم کے ساتھ دائر ہے کہ زید ہر اس موصوف کا اکرام و تعظیم کرتا ہے جو موصوف بصفت علم ہو تو یقینا زید اپنے دعوے میں سچا ہے کہ وہ علماء کا اکرام کرتا ہے لیکن اگر ایسا نہیں ہے تو زید کا دعویٰ جھوٹا ہے مثلاً زید عالم کی عزت تو کرتا ہے لیکن تب تک کرتا ہے جب تک وہ عالم تبلیغی جماعت کے منکر پر نکیر نہ کرے، اگر اس عالم نے تبلیغی جماعت کے منکرات پر نکیر کردی تو زید کا اکرام و تعظیم سب کافور ہوجاتا ہو تو اس سے بات کھل کر معلوم ہوئی کہ زید کے اکرام اور تعظیم کی علت علم نہیں تھی بلکہ اصل علت اکرام و تعظیم کی *بلا حدود و قیود مروجہ تبلیغی جماعت کا ساتھ دینا* تھی اور کیونکہ زید کا اکرام و تعظیم اسی علت کے وجود و عدم کے ساتھ دائر ہے کہ جیسے ہی مروجہ تبلیغی جماعت کے منکر پر نکیر اس عالم نے کی تو فورا زید کا اکرام بھی جاتا رہا تو اب یقینا یہ کہا جا سکتا ہے کہ زید کا یہ دعویٰ کرنا کہ میں علماء کا اکرام کرتا ہوں یہ جھوٹ نکلا۔ 


یہی صورت حال مفتی احمد صاحب خانپوری کے ساتھ اور ہر اس عالم دین کے ساتھ پیش آتی ہے جو تبلیغی جماعت کے منکر پر نکیر کرتے ہیں پھر چاہے وہ شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی ہوں یا مولانا خالد سیف اللہ رحمانی، مولانا سجاد نعمانی ہوں یا مولانا ارشد مدنی، مولانا الیاس گھمن صاحب ہوں یا مفتی سلمان منصورپوری صاحب، مفتی زید ندوی مظاہری صاحب ہوں یا مولانا منیر صاحب اکابرین میں سے جسنے بھی مروجہ تبلیغی جماعت کے منکرات پر نکیر کی پھر چاہے وہ کتنا ہی بڑا علامہ ہو اسکا اکرام و تعظیم سب یک لخت ختم ہوجاتا ہے۔ الغرض جب تبلیغی جماعت کا ان اکابرین امت کے ساتھ یہ رویہ ہے جو  کہ اپنے زمانے کے اعتبار سے  صفت علمیت کے ساتھ علی وجہ الاتم موصوف ہیں تو جب انکا اکرام و تعظیم نہی عن المنکر کے بعد ختم ہوجاتا ہے تو ہما شما کا کیا شمار، جب اکابرین کے لیۓ یہ بات ثابت ہوگئی تو عام علماء کے لیۓ بدرجہ اولیٰ ثابت ہوگئی بھر بھی اگر کوئی عالم اس خوش فہمی میں ہو کہ مروجہ تبلیغ  والے میرا بہت اکرام کرتے ہیں تو ذرہ نہی عن المنکر کرکے دیکھ لے تو پتہ چل جاۓ گا کہ اکرام کی علت علم تھی یا کچھ اور یا مداہنت فی الدین۔ 

اسلیۓ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ مروجہ تبلیغی جماعت کا دعویٰ کہ ہم علماء اور صلحاء کا اکرام و تعظیم کرتے ہیں یہ دعویٰ باطل ہے۔ 


ہاں اسمیں سدھار کرنا مروجہ تبلیغی جماعت کے لیۓ ممکن ضرور ہے وہ اس طرح کے اکرام و تعظیم کی علت علم کو بنائیں اور علماء کے منکر پر نکیر کرنے کے بعد بھی وہی اکرام و تعظیم باقی رہے جو نکیر سے پہلے تھا اور جو مداہن قسم کے علماء آپکے ارد گرد گھومتے ہیں انسے کنارہ کشی اختیار کریں۔ 


استدراک : یہ اکثری حکم ہے مستثنیات ہر جگہ ہوتے ہیں۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

اہم روابط

  • darulifta-deoband.com
  • sarbakaf.com

آمد و رفت (پیج ویوز)

کتاب کی درخواست کریں

نام

ای میل *

پیغام *