اہل السنۃ والجماعۃ علمائے دیوبند کے منہج و مسلک کا ترجمان

ہفتہ، 6 جون، 2026

جب آپ صلی اللہ علیہ و سلم اور صحابہ سے چل پھر کر دعوت دینا ثابت ہے تو مروجہ تبلیغی جماعت کا گشت کذائی بدعت کیسے ہوگیا ؟ مفتی ارشد دہلی والا

 



*جب آپ صلی اللہ علیہ و سلم اور صحابہ سے چل پھر کر دعوت دینا ثابت ہے تو مروجہ تبلیغی جماعت کا گشت کذائی بدعت کیسے ہوگیا ؟*


✍️ *مفتی ارشد دہلی والا*


تمہیدا یہ بات سمجھو کہ چلنا پھرنا اپنی اصل کے اعتبار سے مباح ہے، فی نفسہ چلنے پر نہ کوئی ثواب ہے اور نہ اسکے ترک پر کوئی عقاب ہے، اگر چلنا پھرنا فی نفسہ کوئی ممدوح شرعی ہوتا تو آفس چل کر جانے والا میریتھان میں بھاگنے والا اسی طرح ہر ماشی ثواب کا مستحق ہوتا اس سے معلوم ہوا کہ چلنا پھرنا فی نفسہ ممدوحات شرعیہ میں سے نہیں ہے۔ 

ہاں اتنی بات ضرور ہے کہ فعل مباح جب ممدوح شرعی کا وسیلہ بنے تو وہ بھی لغیرہ مستحب بن جاتا ہے اور اسپر بھی ثواب مرتب ہوتا ہے اور اگر فعل مباح مکروہ شرعی کا وسیلہ بنے تو وہ بھی مکروہ لغیرہ ہو جاتا ہے اور اسپر بھی گناہ مرتب ہوتا ہے مثلاً نماز کے لیۓ مسجد کی طرف چلنا مستحب لغیرہ ہے اور اسپر ثواب بھی ملیگا اسی طرح کسی کے قتل یا مال لوٹنے کے لیۓ چلنا مکروہ لغیرہ ہے اور اس چلنے پر بھی گناہ مرتب ہوگا، جب اتنی بات سمجھ میں آگئی تو اب آگے کی باریک باتوں کو گوش ہوش سے سمجھنے کی کوشش کرو۔ 

تبلیغ ایک امر مطلق ہے جسکی ادائگی کا کوئی طریقہ شرعا متعین نہیں مکلف جس طریقہ سے چاہے اس امر مطلق کو ادا کرنے کا مجاز ہے،اور یہ بات بھی بدیہی ہے کہ امر مطلق کا خارج میں وجود بدون اسکی کسی قید کی محال ہے، یعنی امر مطلق جب بھی خارج میں پایا جاۓ گا تو یہ ضروری ہے کہ کسی نہ کسی قید یا وصف سے مقید و موصوف ہوکر ہی پایا جاۓ بدون قید و وصف کے اسکا وجود خارجی ممکن نہیں۔ تو تبلیغ کے امر مطلق کی ادائگی کے لیۓ بھی کسی نہ کسی قید یا شکل یا وصف  کا ہونا ضروری ہے ورنہ تبلیغ موجود نہیں ہوسکتی لیکن یہ ضرور یاد رہے کہ مطلق کو جس قید یا جس شکل میں ادا کیا جاۓ گا وہ قید شرعا مباح ہوگی بلکہ تمام قیودات کا یہی حال ہے تو اگر کوئی امر مطلق کی کسی قید مباح کو حد اباحت سے بڑھاۓ گا تو اولا المطلق يجري على إطلاقه کا قاعدہ ٹوٹے گا اور نتیجتا شرع شریف کا حلیہ بگڑیگا اور وہ شخص تعدی حدود اللہ کا مرتکب ہوگا اور یہی بدعت ہے۔  

اب چلتے ہیں دور نبوی کی طرف کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار اور مشرکین کو تبلیغ کرنے کے لیۓ جو چلت پھرت کی وہ دراصل امر مطلق تبلیغ کی ادائگی کی ایک مطلق شکل تھی کیونکہ یہ بات ابھی اوپر معلوم ہوچکی  کہ چلنا پھرنا فی نفسہ کوئی نیکی نہیں تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا چلنا پھرنا یہ تبلیغ کی ادائگی کی فقط ایک شکل یا قید مباح تھی جسکو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے تبلیغ کے لیۓ مقید اور متعین نہیں کیا، چنانچہ ظاہر ہے ورنہ تو تبلیغ امر مطلق نہ ہوتی بلکہ مقید ہوتی جبکہ اسکا مطلق ہونا شرعا ثابت ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا دعوتی خطوط بھیجنا اسی امر مطلق تبلیغ کی ادائگی کی ایک دوسری شکل ہے۔ 

نتیجتا یہ کہا جا سکتا ہے کہ تبلیغ کے لیۓ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی چلت پھرت امر مطلق کی قیودات مباحہ میں سے ایک قید مباح تھی، چلت پھرت  کے ذریعہ دعوت و تبلیغ نہ کی جاتی تو کسی نہ کسی ذریعہ تو ضرور کی جاتی کیونکہ مذکورہ بالا تقریر سے یہ بات معلوم ہو چکی کہ امر مطلق بدون اپنی قید کے خارج میں موجود نہیں ہو سکتا، تو چلت پھرت فی نفسہ کوئی عبادت نہ ہوئی بلکہ ایک قید مباح رہی اور جب چلت پھرت کوئی عبادت نہ ہوئی تو اس سے استدلال کرکے مروجہ تبلیغی جماعت کے گشت کذائی کو ثابت کرنا بلکہ چلت پھرت کو نبوی سنت قرار دیکر گشت کذائی کو ممدوحات شرعیہ میں شمار کرنا کیسے درست ہوا؟

نیز جب فریق مخالف نے مطلق چلت پھرت سے استدلال کرکے گشت کذائی کے ممدوح شرعی ہونے پر استدلال کیا تو دراصل اسنے ایک قید مباح کو حد اباحت سے بڑھا دیا اور اسکی ذات ہی میں حسن کا قائل ہو گیا جبکہ شرعا اصل حسن تبلیغ کا تھا نہ کے طریقہ تبلیغ کا یعنی امر مطلق تبلیغ کی ادائگی کی قیودات سب کے سب مباح تھیں اور اس شخص نے قید مباح کو ممدوح شرعی بناکر حد اباحت سے اسکو آگے نکال دیا، اور شرع شریف کا حلیہ بگاڑا اور یہی تعدی حدود اللہ بھی ہے  اور بدعت بھی ہے۔

خلاصہ یہ نکلا کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا دعوت و تبلیغ کے لیۓ چلنا پھرنا امر مطلق تبلیغ کی ادائگی کے لیۓ بطور ایک قید کے تھا، فی نفسہ چلنے پھرنے میں شرعا کوئی حسن نہیں، نیز آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا چلنا پھرنا یہ اطلاق کی قوت کے ساتھ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے چلنے پھرنے نے امر مطلق تبلیغ کو مقید نہیں کیا اور تبلیغ کی ادائگی کی کسی قید خاص کو ممدوح شرعی نہیں بنایا اور نہ کسی قید کو مکروہ شرعی بنایا یعنی اطلاق علی حالہ باقی رہا ورنہ تبلیغ امر مطلق نہ رہتی، اور جب اطلاق علی حالہ باقی رہا تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی چلت پھرت سے استدلال کرکے گشت کذائی کو ممدوح شرعی بنانا جائز نہیں  کیونکہ خود شارع نے اسکو ممدوح شرعی نہیں بنایا بلکہ اباحت کی حد پر رکھا تو اسکے باوجود کوئی چلت پھرت کو ممدوح شرعی بناۓ گا  تو بدعت لازم آۓ گی کہ امر مباح حد اباحت سے آگے نکل جاۓ گا اور ما لیس منہ فھو رد کی رو سے مردود قرار پاۓ گا، اسکے علاوہ گشت کذائی میں تاکد، اصرار، التزام ما لا یلزم، تداعی اور تعیینات و تخصیصات تو علی حدہ رہیں۔ 

*خلاصۃ الخلاصہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا دعوت و تبلیغ کے لیۓ چلنا پھرنا امر مطلق تبلیغ کی ادائگی کے لیۓ ایک قید مباح تھا اور مروجہ تبلیغی جماعت کے گشت کذائی کو ممدوحات شرعیہ میں سمجھا جانے لگا ہے۔ بينهما فرق واضح و بون شاسع کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے چلنے پھرنے کی حیثیت اور تھی اور گشت کذائی میں چلنے پھرنے کی حیثیت اور ہے، گو کہ دونوں جگہ چلنا پھرنا یکساں ہوا لیکن حیثیت کے بدلنے سے گشت کذائی کا حکم بدل گیا*

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

اہم روابط

  • darulifta-deoband.com
  • sarbakaf.com

آمد و رفت (پیج ویوز)

کتاب کی درخواست کریں

نام

ای میل *

پیغام *