*اونچ نیچ اور بیچ*
✍️ *مفتی ارشد دہلی والا*
سورہ فاتحہ میں اللہ تعالیٰ نے تین راستوں کی طرف اشارہ کیا ہے ایک ہے ضالین کا راستہ دوسرا ہے مغضوب علیہم کا راستہ اور تیسرا ہے صراط مستقیم جو ہدایت کا ضامن ہے۔
افراط اور تفریط سے بچکر اعتدال کا راستہ اختیار کرنا یا اونچ نیچ سے بچکر بیچ کا راستہ اختیار کرنے کے ہم مامور ہیں، نہ تو حد سے گزرنا اچھی بات ہے اور نہ حق میں کوتاہی کرنے کے ہم مجاز ہیں بلکہ اعتدال اور انصاف کے دامن کو تھام کر صراط مستقیم پر جمے رہنا ہی شرعا محمود ہے۔
ایک طرف تو یہود نے تفریط کا راستہ اختیار کیا یہاں تک کہ نبیوں کو قتل کر ڈالا اور مغضوب علیہم قرار پاۓ اور دوسری طرف عیسائیوں نے افراط کا راستہ اختیار کرکے نبی کو خدا کا بیٹا ہی بناکر چھوڑا اور ضالین قرار پاۓ اور دونوں ہی گروہ صراط مستقیم سے بھٹک گیۓ۔
ایک اونچ میں گمراہ ہوا دوسرا نیچ میں گمراہ ہوا جبکہ ہدایت بیچ و بیچ تھی۔
مروجہ تبلیغی جماعت کی خلاف شرع باتوں پر رد کرنے میں کچھ لوگ حد سے ایسے گزرے کہ خود غلو کا شکار ہو گیۓ، اور غلو پر رد کرنے والا خود اگر غلو کرے تو دونوں میں فرق ہی کیا رہا۔ انمیں سر فہرست نام ہے پڑوس ملک کے عالم آصف نسیم کا جنکے بیانات ییوٹیوب پر مولانا عبد الرحمن کے نام سے مشھور ہیں۔
واضح کردوں کہ یہ شخص علامہ سعد الدین تفتازانی پر بھی لعن طعن کرتا ہے اور مولانا قاسم نانوتوی مولانا رشید احمد گنگوہی حتی کہ حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی کو بھی برا بھلا کہتا ہے، یہ شخص اور اسکے شاگرد مروجہ تبلیغی جماعت سے اس قدر نالاں ہوۓ کے پوری دیوبندیت پر لعن طعن کرنا شروع کردیا حتی کہ قاسم العلوم والخیرات مولانا قاسم نانوتوی کو بھی نہیں بخشا تو ایسے لوگوں سے ہوشیار رہیں۔
چمکتا جو نظر آتا ہے سب سونا نہیں ہوتا
مروجہ تبلیغی جماعت پر رد کرنے والے ہر شخص کو اپنا استاد اور خیرخواہ سمجھنا بڑی سادگی ہے، بریلوی بھی تبلیغی جماعت پر رد کرتے ہیں تو فقط اس اشتراک سے انکو اپنا یا خود کو انکا ہم عقیدہ بنالینا بے وقوفی ہے۔
ثانیا کچھ لوگ شیخ زکریا رح کی مروجہ تبلیغی جماعت کی تائید کرنے کی وجہ سے اس قدر انپر برہم ہیں کہ کھلے عام انپر سب و شتم کر رہے ہیں اور بعض ظالموں نے آصف نسیم کا نام لیکر حضرت شیخ رح پر لواطت کا الزام بھی لگا دیا۔
ایسے لوگ فقط اپنی آخرت ہی برباد کر رہے ہیں، اگر اکابرین میں سے کسی کی راۓ سے آپکو اتفاق نہیں تو کیا یہ ضروری ہے کہ انکی شخصیت کو جب تک جوتوں تلے روند نہ دو تب تک اختلاف مکمل نہیں ہوگا؟
اعدتال وہ حسن ہے جو اختلاف کو بھی خوبصورت بنا دیتا ہے،
اکابرین سے کوئی خطا یا چوک ہو جاۓ تو انکے تعلق سے تین ممکنہ رویہ سامنے آتے ہیں، پہلا رویہ اندبھکتی کا ہے کہ چونکہ ہمارے حضرت نے فرمادیا اسلیۓ یہ غلط ہو ہی نہیں سکتا ایسے لوگوں کے نزدیک حق کا معیار وہی شخصیت ہوتی ہے اور یہ افراط ہے، دوسرا رویہ متشددین کا ہے جو اکابرین کی ایک چوک کی وجہ سے انکی زندگی بھر کی خدمات اور علمی کارناموں کو جوتے تلے روند دیتے ہیں اور یہی تفریط ہے، اور ان دونوں کے بیچ میں تیسرا رویہ معتدلین کا ہے جو نہ کسی شخصیت کی شخصیت سے مرعوب ہوکر انکی خطا کو صواب قرار دیتے ہیں اور نہ اس چوک کی وجہ سے انکی زندگی بھر کے علمی کارناموں کو جوتے تلے روندتے ہیں بلکہ اعتدال اور ادب کے ساتھ اختلاف کرتے ہیں، انکی چوک کی نشاندہی بھی کرتے ہیں اور انکا احترام بھی باقی رکھتے ہیں اور یہی اعتدال ہے۔
*اونچ نیچ سے بچکر بیچ کا درمیانی راستہ ہی صراط مستقیم ہے۔*
ثالثا ہمارا رد ہمیشہ علمی ہو اور ۲ صفتوں سے متصف ہو ایک وجودی ایک عدمی، وجودی صفت یہ ہے کہ ہمارا کلام قرآن و سنت کے دلائل سے مزین ہو اور عدمی صفت یہ ہے کہ لعن طعن، گالم گلوچ اور شخصیات پر حملہ کرنے سے پاک ہو، اگر یہ ہوگا تو مخاطب کا ہماری بات کو قبول کرنے کا امکان بہت قوی ہے اور اس سے بڑی کامیابی کیا ہوگی اور اگر لعن طعن گالم گلوچ اور شخصیات پر حملہ سے ہمارا کلام بھرا ہوا ہوگا تو قبول کرنے والا بھی دور ہو جاۓ گا۔
اخیر میں وہی بات دہراتا ہوں کہ اکابرین سے مرعوب ہوکر نہ تو انکی چوک کو صواب قرار دینا ہے اور نہ انکی چوک کی وجہ سے انکی زندگی بھر کی علمی خدمات کو فراموش کرنا ہے بلکہ انکے احترام کو باقی رکھتے ہوۓ اس چوک کی نشاندہی کرکے اپنے اختلاف کو ادب کے ساتھ پیش کرنا ہے۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں