اہل السنۃ والجماعۃ علمائے دیوبند کے منہج و مسلک کا ترجمان

ہفتہ، 6 جون، 2026

مروجہ تبلیغی جماعت کے متعلق کچھ اعتراضات اور انکے جوابات - مفتی ارشد دہلی والا

 



*مروجہ تبلیغی جماعت کے متعلق کچھ اعتراضات اور انکے جوابات*


*معترض* : کوئی معتبر عالم، مولوی یا ساتھی یہ نہیں کہتا کہ محض چلنا عبادت مقصودہ ہے، اور قطع نظر کسی عبادت کا وسیلہ بننے کے ممدوح شرعی ہے۔


*مفتی ارشد دہلی والا*: 

معترض صاحب نے کہا کہ کوئی معتبر عالم دین چلنے کو عبادت مقصودہ نہیں کہتا۔ 

جوابا عرض ہے کہ شرعا کیا یہ ضروری ہے کہ لوگوں کے کہنے کے بعد ہی انپر رد کیا جاۓ؟ اگر ایسا ضروری ہوتا تو التزام ما لا یلزم کی کراہت کے کیا معنی ؟ کوئی بھی شخص جو التزام ما لا یلزم کا مرتکب ہو وہ مقر نہیں ہوتا پھر بھی اسپر رد کیا جاۓ گا چاہے وہ زبان سے اسکا اقرار کرے یا نہ کرے کیونکہ اقرار سے خود اسکے حق میں ضرر لازمی کا پتہ تو چلیگا لیکن عدم اقرار سے ضرر متعدی کا عدم ضروری نہیں بلکہ اکثر و بیشتر یہ ضرر متعدی ہی ہوتا ہے اور اسکی ذات تک محدود نہیں رہتا بلکہ عوام کا عقیدہ بھی فاسد ہوتا ہے خود دیکھ لو کہ عوام جماعت میں جانے کو اور گشت کرنے کو دین سمجھنے لگی ہے بعض تو یہ بھی سمجھنے لگے ہیں کہ صحابہ جماعت میں جاتے تھے، خیر بات کہیں اور چلی گئی ہمارا اصل مدعی تو یہ ہے کہ امر مطلق تبلیغ کی ادائگی کی تمام قیودات شرعا مباح ہیں اور یکساں ہیں انمیں سی کسی مخصوص قید مباح کو دوسری قیودات سے افضل سمجھنا اسکو حد اباحت سے خارج کرتا ہے اور یہی بدعت کو مستلزم ہے۔ 

ثانیا جب مولانا سعد کاندہلوی اور انکے لاکھوں کروڑوں متبعین کے یہاں تاکد  اصرار التزام ما لا یلزم اور مطلق کی ایک قید مخصوص کی تفضیل کی وجہ سے گشت کذائی کا بدعت ہونا متحقق ہوگیا تو ایھام التفضیل اور فساد عقیدہ کے تعدیہ کے اندیشہ سے دیگر لوگوں کے لیۓ بھی اسکا ترک ضروری ہے گو انکے یہاں بدعت کا تحقق نہ ہوا ہو لیکن بدعت کا توہم بھی ترک کو واجب قرار دیتا ہے۔  سور مستحبہ کے التزام کو فقہاء نے اسی لیۓ مکروہ قرار دیا ہے، باوجودیکہ عوام کا عقیدہ ابتک فاسد نہیں ہوا لیکن اس التزام سے فاسد ہونے کا اندیشہ ہے۔ 

اگر عقیدہ کا فساد فقط لازمی ہوتا اور متعدی نہ ہوتا تو گنجائش نکل سکتی تھی لیکن اب عقیدہ کا فساد عوام میں متعدی ہو رہا ہے، تو حسما للمادہ و قطعا للذرائع اسکو ترک کرنا ضروری ہے۔ 

اور لاکھوں کروڑوں کی تعداد میں لوگوں کے عقیدے کے فاسد ہوجانے کے بعد بھی اسکو نہ چھوڑنا یہ اصرار تاکد اور التزام ما لا یلزم نہیں تو اور کیا ہے۔ 

اگر امر انتظامی ہی سمجھا ہے تو چھوڑ دو، دوسرے طرق بہت ہیں جن پر امت ١٤٠٠ سال سے عمل کرتی آئی ہے، گشت کذائی مطلق تبلیغ کی کوئی نوع تو ہے نہیں، کہ لولاہ لامتنع کے بدون اسکے تبلیغ کا تحقق ہی نہ ہو، اور نہیں چھوڑتے تو امر انتظامی سے اسکا درجہ آپنے بڑھا دیا ہے۔


*معترض :* جس طرح احادیث میں آتا ہے ، جو نکلا طلب علم کے لیے وہ الله کے راستے میں ہے حتی کہ لوٹے۔ یہاں خروج اور چلنا امر مستحسن کا وسیلہ بن رہا ہے، اس لیے ممدوح ہے،  اسی طرح ایک حدیث میں ہے جو طالب علم حصول علم کے لیے نکلے تو فرشتے اس کے قدموں کے نیچے پر بچھا دیتے ہیں، دیکھیے یہاں بھی چلنا امر مستحسن ہوا۔


*مفتی ارشد دہلی والا* : یہاں چلنا جو امر مستحسن قرار پایا ہے وہ حصول علم کی وجہ سے ہے  نہ کہ فی نفسہ چلنا امر مستحسن ہے اور یہ ہمارے خلاف نہیں 


 *معترض :* امر مستحسن کے لیے چلنا کوئی غیر مدرک بالقیاس بھی نہیں ہے کہ اس پر قیاس کرکے کسی دوسرے امر کی طرف تعدیہ نہیں کیا جاسکتا، اسی وجہ سے صحابی / تابعی نے جمعہ کے لیے چل کر جانے والے کے لیے ایک حدیث سے اس کے حسن کو ثابت کیا ہے۔


*مفتی ارشد دہلی والا* : ہمنے یہ کب دعویٰ کیا کہ اسکا تعدیہ ممکن نہیں، امر مطلق کی تمام قیودات مباح ہیں، مکلف کو اختیار ہے جسپر چاہے عمل کرے نیز ابو عبس رض اور عبایہ ابن رفاعہ ابن رافع ابن خدیج کے واقعہ سے اور امام بخاری کی تبویب سے بھی فی نفسہ چلنے کا استحسان ثابت نہیں ہوتا بلکہ جمعہ کی ادائگی کی وجہ سے اسمیں استحسان آیا ہے تو یہ بھی ہمارے خلاف نہیں ہوا؟ 


*معترض:* درحقیقت موصوف کی پوری بحث اس مفروضے پر قائم ہے کہ تبلیغی جماعت "گشت" کو بذاتہٖ ایک مستقل ممدوح شرعی اور عبادت مقصودہ عمل سمجھتی ہے، جبکہ حقیقت میں گشت کو دعوت کا ایک ذریعہ اور انتظامی طریقہ سمجھا جاتا ہے۔ آگے موصوف نے خود تسلیم کیا ہے کہ تبلیغ ایک امرِ مطلق ہے اور اس کی ادائیگی مختلف مباح صورتوں سے ہوسکتی ہے۔ *یہی تو اہلِ تبلیغ کا موقف ہے۔*


*مفتی ارشد دہلی والا* : یہی معترض کی سب سے بڑی بھول ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ مروجہ تبلیغی جماعت کے نزدیک گشت کذائی کو امر انتظامی سمجھا جاتا ہے، علی سبیل التسلیم ہم کہتے ہیں کہ اگر ایک گروہ اسکو ابتک امر انتظامی ہی سمجھتا ہے  لیکن مولانا سعد کاندھلوی اور انکے کروڑوں متبعین تو اسکو امر انتظامی سے بڑھا کر امر دینی قرار دے چکے ہیں، اور جب کروڑوں کی تعداد سے یہ بات ثابت ہوچکی کہ وہ  ایک مباح چیز پر تاکد اصرار التزام ما لا یلزم اور مطلق کی قیودات مباحہ میں سے ایک قید مباح کی تفضیل  کے قائل ہوکر بدعت کے مرتکب ہوۓ تو انکا یہ عقیدے کا فساد ان تک محدود نہیں رہیگا بلکہ یہ عوام میں متعدی ہوگا، اسی وجہ سے فقہاء سور مستحبہ کے التزام کو بھی مکروہ قرار دیتے ہیں اور صاحب ھدایہ نے اسکی علت یہ بیان کی ہے *لأن فيه هجران الباقي و إيهام التفضيل* یہاں فقهاء تو تفضیل کے فقط ایھام کی وجہ سے مستحبات کے ترک کا حکم دے رہے ہیں اور معترض صاحب تعداد کثیر کے نزدیک تفضیل کے متحقق ہونے کے بعد بھی امر مباح پر مصر ہیں۔ 


*معترض* : اگر کسی شخص نے دعوت کے لیے:مدرسہ قائم کیا،کتابیں شائع کیں،دعوتی اجتماعات رکھے،مقررہ اوقات میں دورے کیے،یا محلوں میں جاکر لوگوں سے ملاقاتیں کیں، تو یہ سب دعوت کے وسائل ہیں۔


*مفتی ارشد دہلی والا* : یقینا یہ سب وسائل ہیں اور سب کے سب مباح اور جائز ہیں، کراہت تب آتی ہے جب انکو وسائل کے درجہ سے اوپر اٹھاکر مقاصد بنانے کی کوشش کی جاتی ہے جو مروجہ تبلیغی جماعت کرتی ہے۔


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

اہم روابط

  • darulifta-deoband.com
  • sarbakaf.com

آمد و رفت (پیج ویوز)

کتاب کی درخواست کریں

نام

ای میل *

پیغام *