اہل السنۃ والجماعۃ علمائے دیوبند کے منہج و مسلک کا ترجمان

ہفتہ، 6 جون، 2026

مولانا یعقوب صاحب سلونی کی قرآن میں تحریف - مفتی ارشد دہلی والا


 


*مولانا یعقوب صاحب سلونی کی قرآن میں تحریف*


✍️ *مفتی ارشد دہلی والا* 


مرکز نظام الدین میں مقیم مولانا یعقوب صاحب سلونی کا ایک بیان میرے پاس پہنچا جسمیں موصوف مقامی کام کی اہمیت پر بات کرتے ہوۓ فرمانے لگے : *اگر ہمیں چند لمحوں کے لیۓ کام کی سہولت مل جاۓ اور ہم اس سے فائدہ نہ اٹھائیں تو یہی سخت عذاب کا ذریعہ بن جاۓ گا*


پھر موصوف کا قرآن سے استدلال دیکھو اور قرآن میں بد ترین تحریف دیکھو کس طرح کی ہے، آگے فرماتے ہیں : *قرآن سے ثابت ہے حواریین نے حضرت عیسی علیہ السلام سے درخواست کی کہ آپ ہمارے لیۓ پکا پکایا اور تیار دسترخوان آسمان سے اتروادیں تاکہ ہم عبادت اور دعوت کے لیۓ فارغ ہوجائیں، رَبَّنَا أَنزِلْ عَلَيْنَا مَائِدَةً مِّنَ السَّمَاءِ تَكُونُ لَنَا عِيدًا لِّأَوَّلِنَا وَآخِرِنَا وَآيَةً مِّنكَ* 


آگے مولانا یعقوب سلونی فرماتے ہیں اللہ تعالی نے انکار نہیں فرمایا، اللہ تعالیٰ نے دو باتیں فرمائی

ایک یہ کہ ہم اتار دینگے *دوسری بات یہ کہ یہ اتارنا سہولت ہے دعوت اور عبادت کے لیۓ، اور اس سہولت کے بعد اگر* *تمنے اپنے آپ کو دعوت اور عبادت کے لیۓ فارغ نہ کیا اور اس سہولت سے فائدہ نہ اٹھایا تو میں ایسا عذاب دونگا کہ آج تک کسی کو ایسا عذاب نہ دیا ہوگا* انتھی الغلو والتحریف


یہ قرآن کی آیت میں کتنا صریح جھوٹ ملایا ہے مولانا یعقوب سلونی صاحب نے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اصحاب مائدہ کو جو عذاب کی دھمکی کفران نعمت اور خیانت پر دی گئی تھی اسکو لاکر فٹ کردیا دعوت و تبلیغ کے چھوڑنے پر، اتنا سفید جھوٹ اللہ کے کلام میں ملا کر اپنی بدعت ثابت کرنا چاہتے ہیں، افسوس ہے ان لوگوں پر کہ اتنا بھی نہیں سوچتے کہ ہم مجمع میں اللہ کا نام لیکر جھوٹ بول رہے ہیں، اللہ کا نام لیکر جھوٹ بولنے سے بڑا ظلم کیا ہوگا خاص طور پر تب جبکہ اسکے ذریعہ عوام کو بدعتی بنایا جا رہا ہو۔ کبھی کبھی ایسا لگتا ہے کہ انکا بس نہیں چلتا ورنہ یہ لوگ قرآن و سنت میں جتنی وعیدیں ہیں سب کی سب لاکر جماعت کا کام چھوڑنے والوں پر چسپاں کردیں۔  آپ ذرہ اندازہ تو لگائیں کہاں اصحاب مائدہ اور کہاں مروجہ تبلیغی جماعت کا مقامی کام، کہاں کی وعید لاکر کہاں فٹ کردی، اگر اسی کا نام استدلال ہے تو دیوانے بھی غلط دلیلیں نہیں دیتے۔ 


 اب اس آیت کو دیکھیۓ  قرآن میں اللہ تعالیٰ کس طرح بیان فرماتے ہیں : قال الله إِنِّي مُنَزِّلُهَا عَلَيْكُمْ ۖ فَمَن يَكْفُرْ بَعْدُ مِنكُمْ فَإِنِّي أُعَذِّبُهُ عَذَابًا لَّا أُعَذِّبُهُ أَحَدًا مِّنَ الْعَالَمِينَ

ترجمہ : *حق تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ میں وہ کھانا تم لوگوں پر نازل کرنے والا ہوں پھر جو شخص تم میں سے اسکے بعد ناحق شناسی کریگا تو میں اسکو ایسی سزا دونگا کہ وہ سزا دنیا جہان والوں میں سے کسی کو نہ دونگا* (بیان القرآن)


اب ہم کچھ تفاسیر کو ذکر کردیتے ہیں تاکہ بات بالکل پکی ہوجاۓ کہ مولانا یعقوب سلونی نے قرآن میں جھوٹ ملایا ہے اور واقعی بد ترین تحریف کا ارتکاب کیا ہے، 

۱) امام جریر  ابو جعفر طبری متوفی ۳۱۰ھج  اپنی تفسیر طبری میں لکھتے ہیں : فمن يكفر بعد منكم "، يقول: فمن يجحد بعد إنـزالها عليكم، وإطعاميكموها - منكم رسالتي إليه، وينكر نبوة نبيِّي عيسى صلى الله عليه وسلم، ويخالفْ طاعتي فيما أمرته ونهيته فإني أعذبه عذابًا لا أعذبه أحدا من العالمين

*امام طبری کے نزدیک عذاب کی وعید حضرت عیسی علیہ السلام کی نبوت کے انکار پر تھی نہ کے دعوت و تبلیغ کے ترک پر۔*


۲) علامہ جلال الدین محلی متوفی ۸٦٤هج جلالین میں اس آیت کے تحت لکھتے ہیں : فَأُمِرُوا أَنْ لَا يَخُونُوا وَلَا يَدَّخِرُوا لِغَدٍ فَخَانُوا وَادَّخَرُوا فَمُسِخُوا قِرَدَة وَخَنَازِير

*انکے نزدیک بھی عذاب کی وجہ یہ تھی کہ بنی اسرائیل کو خیانت کرنے اور دوسرے دن کے لیۓ کھانا جمع کرکے رکھنے سے منع کیا گیا تھا۔* 


۳) حکیم الأمت مولانا اشرف علی تھانوی رح بیان القرآن میں لکھتے ہیں *مجموعہ ان حقوق کا یہ تھا کہ اسپر شکر کیا جاوے کہ عقلا بھی واجب ہے اور اسمیں خیانت نہ کریں اور اگلے دن کے لیۓ اٹھا کر نہ رکھیں،* چنانچہ یہی بات ترمذی کی روایت میں حضرت عمار بن یاسر سے منقول ہے اور اس حدیث میں یہ بھی ہے کہ مائدہ آسمان سے نازل ہوا اسمیں روٹی اور گوشت تھا اور *حدیث میں یہ بھی ہے کہ ان لوگوں نے (بعض نے) خیانت کی اور اگلے دن کے لیۓ اٹھا کر رکھا پس بندر اور خنزیر کی صورت میں مسخ ہوۓ۔* 


ان تفاسیر سے بات بالکل عیاں ہو گئی کہ عذاب کی دھمکی دعوت و تبلیغ کے چھوڑنے پر نہیں تھی۔ 

اور اگر بالفرض کسی تفسیر میں اسکا ذکر موجود بھی ہو تب بھی نظام الدین والوں کے لیۓ وہ مستدل نہیں بن سکتی کیونکہ انکے نزدیک تو دعوت و تبلیغ کا طریقہ مخصوص ہے، ممبر سے، قلم سے اخبار و رسائل سے تو تبلیغ کا فریضہ انکے نزدیک ادا ہی نہیں ہوتا بلکہ جو انکے مخصوص نہج پر کام کریگا اسی کی دعوت کا فریضہ ادا ہوگا تو اس صورت میں یہ آیت بشرط وجود تفسیر مذکور بھی مستدل نہیں بن سکتی۔


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

اہم روابط

  • darulifta-deoband.com
  • sarbakaf.com

آمد و رفت (پیج ویوز)

کتاب کی درخواست کریں

نام

ای میل *

پیغام *